ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس کا وزیراعظم کی اہم مسائل پر خاموشی پر شدید تنقید

کانگریس کا وزیراعظم کی اہم مسائل پر خاموشی پر شدید تنقید

Sat, 28 Sep 2024 11:40:19    S.O. News Service

نئی دہلی، 28/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ہریانہ کے انتخابات کے دوران کانگریس نے وزیراعظم کی خاموشی پر ایک بار پھر تنقید کی ہے اور ان سے خاص طور پر3 زرعی قوانین سے متعلق کنگنا رناوت کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو اہم مسائل پر عوام کے سامنے آ کر اپنی رائے پیش کرنی چاہیے، خاص طور پر زرعی قوانین کے حوالے سے، جو کسانوں کے حقوق اور مفادات کے لیے اہم ہیں۔

یاد رہے کہ بی جےپی کی رکن پارلیمان کنگنا نےمذکورہ قوانین کی تائید کرتے ہوئے گزشتہ دنوں کہاتھا کہ کسانوں کو ان قوانین کی واپسی کا مطالبہ خود کرنا چاہئے۔اس پر ہنگامہ مچنے اور ہریانہ الیکشن میں سیاسی نقصان کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے پہلے  بی جےپی کے ترجمان گورو بھاٹیہ  نے مذکورہ بیان کو کنگنا کا ذاتی بیان قراردیا اور کہا کہ اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں  ہے۔اس کےبعد خود کنگنا نےبھی اپنے الفاظ  واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے  ویڈیو جاری کیا۔ تاہم  راہل گاندھی نے یہ کہہ کر اس موضوع کو زندہ کردیا ہے کہ بی جےپی اس طرح  اپنے لیڈروں سے بیان دلوا کر گہرائی ناپتی ہے۔  کانگریس نے اس کو آگے بڑھاتے ہوئے  اس معاملہ میں وزیر اعظم مودی سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے زرعی قوانین کو دوبارہ واپس لانے پر بیان بازی سمیت دیگرکئی  اہم امور پر بھی وزیراعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوک سبھا انتخابات کے دوران ۴۰۰؍پار کے نعرے سمیت ملک کے آئین کو تبدیل کرنے کی باتیں کی گئیں لیکن وزیراعظم مودی ان بیانات پر اب تک خاموش  ہیں۔‘‘ کانگریس نے الزام لگایا کہ ’’ دوسروں کے ذریعہ بیانات جاری کروائے گئے۔سیاہ  زرعی قوانین کو واپس لانے کا مطالبہ بی جے پی کے ذریعہ ہر روز کیا جاتا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔‘‘ 

کانگریس کے سینئر لیڈر اور جنرل سیکریٹری نے مزید الزام لگایا کہ ’’ وزیر اعظم مودی اور ان کے  خود ساختہ چانکیہ نے  ذات  پر مبنی مردم شماری پر بھی  اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔ وہ جواب نہیں دے رہے کہ کیا وہ کریں گے۔ ریزرویشن پر ۵۰؍فیصد حد ہٹانے پر بھی ان کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا کہ  ہریانہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات میں یہ بہت بڑے موضوعات بننے والے ہیں۔ جے رام رمیش نے حالیہ لوک سبھا انتخابات کےنتائج کو ہندوستانی سیاست کیلئے اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتخابات کے بعد مزید تبدیلیاں  آئیں  گی۔جے رام رمیش نےکہا کہ کانگریس تینوں  زرعی قوانین کی مخالفت کے موقف پر بدستور برقرار دہے۔

 اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی کنگنا رناوت کے بیان پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آخرحکومت کی پالیسی کا فیصلہ کون کررہاہے۔ انہوںنے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرعی قوانین کے خلاف ۷۰۰؍ سے زائد کسانوں کے جانی نقصان کے بعد بھی بی جے پی کے اراکین مطمئن نہیں۔حکومت کی پالیسی وزیر اعظم مودی طے کرتے ہیں یا ایک ممبر پارلیمنٹ  طے کرتی ہیں؟ انہوں نے مزید کہاکہ بی جے پی ایم پی کے ذریعہ دیا گیا یہ بیان عوامی ردعمل کو سمجھنے کیلئے ہے۔  

 واضح رہے کہ دہلی میں ایک سال سے زائد عرصہ تک چلنےوالے کسانوں کے احتجاج میں  ہریانہ کے کسان بڑی تعداد میں شریک تھے۔  اس احتجاج میں ۷۰۰؍ سے زائد کسانوں کی موت ہوئی تھی جس کے بعدوزیراعظم مودی نے قانون واپس لینے کافیصلہ کیاتھا۔ ایسے وقت میں جبکہ ہریانہ میں انتخابی مہم جاری ہے، کنگنا رناوت کے بیان سے بی جےپی کو نقصان پہنچاہے اور کانگریس اس موضوع کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ 


Share: